عبد المجيد رياستي صدر
بنگلورو: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے پیش کیا گیا 2026-27 کا ریاستی بجٹ بظاہر کچھ اعلانات پر مشتمل ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ اقلیتی برادری کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے۔
5,000 حکومت نے شیشونال شریف کے نام پر 10 نئی رہائشی اسکولوں کے قیام کے لیے 10 کروڑ روپے، 117 مولانا آزاد ماڈل اسکولوں اور اردو اسکولوں کی ترقی کے لیے 400 کروڑ روپے، جین، بدھ اور سکھ برادریوں کی ترقی کے لیے 100 کروڑ روپے، اور اقلیتی برادری کے 0 ا با صلاحیت مگر غریب طلبہ کو لیپ ٹاپ خریدنے کے لیے فی طالب علم 50 ہزار روپے دینے جیسے اعلانات کیے ہیں۔ انہی اعلانات کو بنیاد بنا کر منو وادی بی جے پی کو یہ پرو پیگنڈہ کرنے کا موقع ملا ہے کہ یہ “مسلمانوں کا بجٹ ” ہے۔
لیکن اگر لراس اس اس بجٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ۔ ہے ہے کہ کہ مسلمانوں سمیت عیسائی، بدھ، ، جین اور دیگر اقلیتی برادریوں براد کو مجموعی طور پر صرف تقریباً 3400 کـ 340 کروڑ روپ ہی مل رہے ہیں۔ پچھلے سال اقلیتوں کے لیے 4700 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جو بجٹ کا 1.18 فیصد تھا، جبکہ اس سال اسے گھٹا کر صرف 3400 کروڑ روپے گھٹا کہ
( 0.76 فیصد) کر دیا گیا ہے۔ اس سے حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اس بار ح اس بار کے بجٹ میں دلت برادری کو بھی ا ی کو بھی انصاف نہیں ملا۔ محکمہ سماجی بہ محکمہ سماجی بہبود کے لیے مختص رقم کو فیصد کے اعتبار سے کم کر دیا لیے رقم فیصلہ اعتبار گیا ہے۔ سال 2025-26 کے بجٹ میں سماجی بہبود کے محکمے کے بجٹ میں سماجی بہبود کے محکمے کے لیے بجٹ کا 14.30 فیصد (17.473 کروڑ روپے مختص تھا، مگر اس بار اسے کم کر کے صرف 4.14 فیصد (18,612 کروڑ روپے) کر دیا گیا ہے ۔ اگرچہ مجموعی رقم بظاہر زیادہ نظر آتی ہے، مگر بجٹ کے فیصد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو حکومت کی نا انصافی واضح ہو جاتی ہے۔
تعلیم کے شعبے کو بھی اس بیج اس بجٹ میں نظر انداز کیا گیا نظر انداز کیا گیا ہے۔ تعلیم کے لیے صرف 10.54 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے، جو کہ قومی اوسط 15 انداز کیا فیصد سے کہیں کہیں کم کم کم ۔ ۔ ہے۔ سال 2025-26 میں تعلیم کے لیے بجٹ کا 1 11.38 فیصد فیصد ) (45,286 کروڑ روپے) مختص کیا گیا تھا، جبکہ اس بار اسے کم کر کے 54 ، 10.54 فیصد (47,224 کروڑ روپے) کر دیا گیا ہے۔ اس ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت بچوں کی تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال برقرار ہے۔ ریاست میں صحت کے نظام میں کئی خامیوں کے پیش نظر اس بار زیادہ فنڈ کی امید میں اتنی خامیوں کے پیش نظر اس بار ز کی جا رہی تھی۔ مگر 2025-26 میں صحت اور خاندانی بہبود کے لیے بجٹ کا 4.39 فی کا 4.39 فیصد (17,473 کروڑ روپے مختص تھا، جبکہ اس بار ا۔ گھٹا کر 3.98 فیصد کر دیا گیا ہے اور صرف 17,817 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ عوام کی توقعات کے خلاف ہے۔ اسے
مجموعی طور پر یہ بجٹ اقلیتوں، دلتو یہ بجٹ اقلیتوں، دلتوں، تعلیم اور تعلیم اور صحت کے شعبو شعبوں کو نظر انداز کرنے والا بجٹ ہے، اور سماجی انصاف کے نام پر حکومت چلانے والی کانگریس حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے.
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا – کرناٹک
