11
Nov

جوش و کانگریس حکومت کے کے اعلان سے پہلے، شری رنگا پٹنا سمیت پورے ریاست میں عوام ہر سال بڑے : خروش اور عزت و احترام عزت و احترام کے. رام کے ساتھ ٹیپو جینتی . مناتے تھے۔ کسی نے بھی اس کا مطالبہ نہیں کیا تھا، لیکن کانگریس نے محض سیاسی فائدے کے لیے اچانک ٹیپو جینتی منانے کا اعلان کیا، اور پھر بی جے پی اور سنگھ پریوار کے دباؤ میں آکر نہ صرف خود سرکاری طور پر جینتی منانا چھوڑ دیا بلکہ عوام کو نجی طور پر بھی ٹیپو جینتی منانے سے روک کر، نرمی سے ہندوتوا کی سیاست کرتے ہوئے آزادی کے مجاہد سلطان ٹیپو کی توہین کی ہے۔ ریاستی حکومت نے شری رنگا پٹنا میں ٹیپو کے چاہنے والوں کو ان کے مزار کی زیارت کرنے تک کی اجازت نہیں دی، لیکن بجرنگ دل کی کئی سرگرمیوں کو وہاں اجازت دی گئی۔ کیا اس سے قانون و امن کو و امن کو خطرہ نہیں ہوا ؟

ار و سلطان مسلمان دی کے بجائے اس سر زمین کی کیسی را اور طاقتور ذات میں پیدا ہوئے ہوتے، تو ہماری یہی و های سیاسی نظام نظام اُن کی کار کردگی اور اور قربانیوں قربانیوں کو کو عالمی سطح پر تسلیم کرتا۔ کرتا۔ آج آج صرف اس لیے یہ یہ المن المناک ماحول پیدا کیا گیا ہے کیونکہ ٹیپو ایک مسلمان تھے۔ انتخابات کے وقت خود کو سیکولر قرار دینے والی کانگریس، فرقہ پرستوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے نام پر مسلمانوں سے ووٹ۔ سے ووٹ لے کر اقتدار حاصل کرتی ہے، لیکن ہمیشہ کی طرح بعد میں مسلمانوں کو دھوکہ دیتی ہے۔ کانگریس پارٹی کی یہ دوغلی پالیسی اگر مسلم برادری اب بھی نہ سمجھے، تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا۔

مجاہد پاشا~
ریاستی جنرل سکریٹری

Leave A Comment